LIVE
Loading Breaking News...

ایران میں سزائے موت میں اضافہ، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش

News Image
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک نے خبردار کیا ہے کہ جنوری کے احتجاجی مظاہروں کے بعد اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک کم از کم چھپن افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔
جنیوا: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف آوازوں اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے سزائے موت کے نفاذ میں تیزی لائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں سال مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک ایران بھر میں کم از کم چھپن افراد کو پھانسیاں دی جا چکی ہیں جو کہ خطے میں انسانی حقوق کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کا غماز ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تازہ لہر جنوری کے مہینے میں ملک بھر میں ہونے والے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے ان مظاہروں کو سختی سے کچلا گیا تھا اور اب مبینہ طور پر عدالتی کارروائیوں کے ذریعے مظاہرین اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو سزائیں دی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان مقدمات میں شفافیت کے بین الاقوامی اصولوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جا رہا۔ اقوام متحدہ کے سربراہ وولکر ٹرک نے ایرانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سزائے موت کے نفاذ کو معطل کرے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی شخص کو محض اپنے سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر موت کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ایران میں بڑھتی ہوئی پھانسیوں کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔