LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی: ٹرمپ نے فضائی حملے کیوں روکے؟ مکمل تفصیلات

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفہ دے دیا ہے کیونکہ حکام کی جانب سے دفاعی میزائلوں اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد ایران نے بھی امریکہ کی طرف سے بمباری روکنے پر اپنے حملے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں عارضی وقفہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سکیورٹی اور دفاعی حکام نے صدر کو ملک کے پاس موجود فضائی دفاعی میزائلوں اور گولہ بارود کے محدود ذخائر کے بارے میں آگاہ کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگی صورتحال میں munitions کی تیزی سے کھپت تشویشناک حد تک پہنچ رہی ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے واشنگٹن میں پالیسی سازوں نے جنگ کو مزید بڑھانے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی سفارش کی۔ دوسری جانب تہران کی طرف سے بھی اس پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر حملے اس وقت تک بند رہیں گے جب تک امریکہ کی جانب سے بمباری کا یہ وقفہ برقرار رہتا ہے۔ اس سفارتی اور عسکری وقفے کو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرات فی الحال ٹل گئے ہیں۔ اخبارات اور خبر رساں اداروں کے مطابق نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اندرونی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ طویل المدتی تنازعات کے لیے جنگی سازوسامان کی فراہمی کو کیسے مستحکم رکھا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دفاعی اسٹاک کی کمی نے امریکہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری حکمت عملی پر نظر ثانی کرے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔ خطے کے مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ دونوں فریقین نے فی الحال ہتھیار ڈالنے یا حملے روکنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم مستقل امن اور جنگ بندی کے لیے ابھی مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ فریقین کے درمیان پائے جانے والے عدم اعتماد کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ثالثی کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔