LIVE
Loading Breaking News...

بندر عباس میں جاری کشیدگی اور ایک سنگل مادر کی مشکلات

News Image
بندر عباس کی ایک سنگل مادر نے مسلسل حملوں کے دوران اپنی زندگی کی تلخ حقیقتوں اور جرات کی داستان بیان کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کبھی حقیقی معنوں میں امن اور جنگ بندی کا نفاذ نہیں ہوا۔
ایران کے ساحلی شہر بندر عباس میں رہنے والی ایک سنگل مادر نے حالیہ کشیدگی اور حملوں کے دوران پیش آنے والے خوفناک لمحات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں جنگ بندی یا امن معاہدوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے، مگر بندر عباس کے باسیوں کے لیے یہ خبریں ہمیشہ سے بے معنی ثابت ہوئی ہیں کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مسلسل اور بار بار ہونے والے حملوں نے شہریوں کی زندگی کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے، جہاں ہر نیا دن ایک نئی غیر یقینی صورتحال لے کر آتا ہے۔ اس سنگل مادر کے مطابق، بچوں کی اکیلے پرورش کرنا اور اوپر سے جنگی صورتحال کا سامنا کرنا ایک انتہائی کٹھن عمل ہے۔ گھر کے اندر بچوں کو محفوظ رکھنے کی تگ و دو، رات کے وقت گونجنے والے دھماکوں کی آوازیں اور خوف کا یہ عالم انسان کو اندر سے جھنجوڑ دیتا ہے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح لوگ مجبوری کے عالم میں معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ معمول اب خوف اور اضطراب میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے امداد یا پائیدار امن کے وعدے زمینی سطح پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو پائے۔ بندر عباس کے عام شہریوں کی لچک اور برداشت اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت انتہائی کٹھن حالات میں بھی جینے کی راہ تلاش کر لیتی ہے۔ متاثرہ خاتون کا ماننا ہے کہ اگرچہ حالات انتہائی خطرناک ہیں، لیکن وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور تحفظ کے لیے ہر ممکنہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس خطے میں فوری اور حقیقی جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ معصوم شہریوں کو مزید تکالیف سے بچایا جا سکے، کیونکہ یہاں کے باسی اب مزید جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔