LIVE
Loading Breaking News...

شوہام میں مذہبی صیہونی پارٹی کے دفتر کے باہر مظاہرین کا دھرنا

News Image
فلسطینی اور اسرائیلی مظاہرین نے مقبوضہ علاقے کے قریب واقع شہر شوہام میں مذہبی صیہونی پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ یہ احتجاج ایسے فنڈز کی مخالفت میں کیا گیا جن کا تعلق مبینہ طور پر آبادکاروں کے تشدد سے ہے۔
بدھ کے روز فلسطینی اور اسرائیلی مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے شوہام کے علاقے میں واقع مذہبی صیہونی پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کے باہر شدید احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ اس احتجاج کا بنیادی مقصد ان فنڈز کی سخت مخالفت کرنا تھا جن کا مبینہ تعلق مغربی کنارے میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی طرف سے کیے جانے والے تشدد سے جوڑا جاتا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مالیاتی فنڈز سے نہ صرف علاقے میں کشیدگی بڑھتی ہے بلکہ عام شہریوں کے حقوق بھی پامال ہوتے ہیں۔ اس احتجاجی دھرنے میں دونوں کمیونٹیز کے افراد نے شرکت کی، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس متنازعہ مسئلے پر مختلف پس منظر رکھنے والے لوگ بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فنڈز کی منتقلی فوری طور پر بند کرنے اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید درج تھی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایسے گروہوں کو مالی امداد دینا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے جو علاقے میں بدامنی اور تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔ مذہبی صیہونی پارٹی کے دفتر کے باہر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ مظاہرین نے پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور نعرے بازی کی۔ شرکاء کا عزم تھا کہ وہ اس وقت تک اپنا دھرنا جاری رکھیں گے جب تک ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں جاری کشیدگی اور حکومت کی مالیاتی پالیسیوں پر گرما گرم بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے مظاہرے حکومت پر اندرونی دباؤ بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں، جس سے مستقبل میں پالیسی سازی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔