LIVE
Loading Breaking News...

ڈسکوز کی نجکاری: وزیراعظم شہباز شریف کی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی ہدایت

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری میں بین الاقوامی معیار کے سرمایہ کاروں کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے نجکاری کمیشن کی تنظیم نو کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے اور صارفین کے حقوق کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور بین الاقوامی معیار کے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ایک جامع و مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجکاری کے اس عمل کے دوران صارفین کے مفادات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے لیے ملکی اور غیر ملکی سطح پر روڈ شوز کامیابی سے منعقد کیے جا چکے ہیں، جنہیں سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب اور چین سمیت دیگرممالک میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کی اندرونی اور ادارہ جاتی تنظیم نو کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ کمیشن کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے فنانس، قانون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بین الاقوامی معیار کے ماہرین کو بھرتی کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مراحل مقررہ وقت کے اندر اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ ملکی معیشت پر اس کے اچھے اور سود مند اثرات مرتب ہوں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن نے پہلے ہی مرحلے میں ان تینوں نمایاں ڈسکوز کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے دلچسپی کے اظہار (EoIs) طلب کر رکھے ہیں، جنہیں واپڈا کے تحت قائم کردہ بنیادی کمپنیوں میں سے سب سے زیادہ قابل عمل سمجھا جاتا ہے۔ نجی شعبے کی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانا اس پوری مشق کا بنیادی مقصد ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی جنہوں نے وزیراعظم کو نجکاری کے اگلے مراحل اور قانونی و مالیاتی ضابطہ کار کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی۔