World
نرمل پرجا کی میت براڈ پیک بیس کیمپ منتقل، ریسکیو آپریشن جاری
الپائن کلب آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آنے والے نامور کوہ پیما نرمل پرجا اور ان کے تین ساتھیوں کی میتیں بیس کیمپ پہنچا دی گئی ہیں۔ اس انتہائی مشکل اور خطرناک ریسکیو آپریشن میں کئی لاپتہ کوہ پیمائوں کی تلاش کا کام بھی جاری ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) نے تصدیق کی ہے کہ ایک انتہائی مشکل اور تکنیکی طور پر کٹھن ریسکیو آپریشن کے بعد نامور کوہ پیما نرمل پرجا اور ان کے تین ساتھیوں کی لاشیں براڈ پیک کے بیس کیمپ تک کامیابی کے ساتھ منتقل کر دی گئی ہیں۔ یہ المیہ اس وقت پیش آیا جب 30 جولائی کو دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں شامل براڈ پیک پر ایک شدید برفانی تودہ گرا، جس کی وجہ سے برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کی قیادت میں جانے والی دس رکنی بین الاقوامی مہم جو ٹیم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اس حادثے کے بعد ان کی کمپنی نے تمام افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی تھی، کیونکہ اس سانحے میں کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا۔
الپائن کلب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ بیس کیمپ پہنچائی جانے والی میتوں کا تعلق نرمل پرجا، چینی کوہ پیما ژونگ وانگ، اور دو نیپالی کوہ پیمائوں شما شیرپا اور کلو شیرپا سے ہے۔ کلب کا مزید کہنا تھا کہ یہ کامیابی ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، تاہم اس کے باوجود تین کوہ پیما تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے حالات سازگار ہونے پر ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ اس سے قبل، ٹیم کے تین دیگر ارکان جن میں ایک امریکی خاتون، ایک عمانی خاتون اور ایک نیپالی مرد شامل تھے، کی میتیں پہلے ہی اسکردو منتقل کی جا چکی ہیں۔ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی اور دو دیگر نیپالی شہریوں کی لاشیں تاحال نہیں مل سکی ہیں جن کے لواحقین اور آبائی علاقوں میں شدید غم کی فضا پائی جاتی ہے۔
اس دلخراش واقعے نے عالمی سطح پر کوہ پیمائی کی برادری کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ نیپال کے نیشنل ماؤنٹین گائیڈ ایسوسی ایشن کے صدر تل سنگھ گُرنگ نے اپنے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوہ پیمائی کا شعبہ قابل ترین مہم جوؤں کی ایک پوری نسل سے محروم ہو گیا ہے۔ اے سی پی کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشاد خان نے میڈیا کو بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹرز پچھلے تین دنوں سے پرواز نہیں کر سکے تھے، لیکن اب حالات بہتر ہونے پر ان میتوں کو جلد اسکردو منتقل کیا جائے گا تاکہ لواحقین اپنے پیاروں کی آخری رسومات پورے احترام کے ساتھ ادا کر سکیں۔
اس پورے آپریشن کے دوران پاکستان آرمی، حکومت پاکستان، گلگت بلتستان انتظامیہ، برطانوی ہائی کمیشن، نیپالی سفارتخانے اور منگما جی اور سرباز خان کی سربراہی میں کام کرنے والی گراؤنڈ ریسکیو ٹیموں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ نیپالی پارلیمنٹ کے رکن اور نرمل پرجا کے کاروباری شراکت دار منگما ڈیوڈ شیرپا نے اس مشکل ترین مشن میں حصہ لینے والے تمام مقامی اور غیر ملکی رضاکاروں کی جرأت، پیشہ ورانہ مہارت اور بے لوث عزم کی زبردست تحسین کی۔ براڈ پیک کارکورم کے سلسلے میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے، جو اپنی فنی سختی اور مشکلات کی وجہ سے کوہ پیمائی کی دنیا میں انتہائی خطرناک مانی جاتی ہے۔