Politics
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی عدالت میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ملاقات پر پابندی بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی (NDC) نے اسلام آباد ہائیکورٹ (IHC) سے رجوع کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی ہے کہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی سہولت فراہم کریں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملاقات کے حقوق سے محروم کرنا بنیادی آئینی ضمانتوں اور جیل کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 199، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت دائر کی جانے والی اس درخواست میں چیئرمین این ڈی سی محمود باقی مولوی، عمران اسماعیل، بیرسٹر محمد علی خان سیف اور فواد احمد فریق ہیں۔ پٹیشنرز، جو کہ سابق وفاقی وزرا اور پی ٹی آئی کے پرانے رہنما ہیں، کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ نے 5 اگست 2023 کو ان کی گرفتاری کے بعد سے قید جوڑے سے ملاقاتوں پر غیر قانونی اور صوابدیدی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ، پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ سمیت تمام متعلقہ حکام نے آئین کے آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 14 کے تحت حاصل بنیادی حقوق کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پٹیشنرز کے مطابق گزشتہ ایک سال سے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے، جو ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے جیل خانوں سے متعلق نیسن منڈیلا رولز کی بھی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ خاندان کو اپنے قید بھائی اور ان کی اہلیہ تک رسائی نہیں دی جا رہی، جس کی وجہ سے کسٹڈی میں ان کی صحت اور سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی نے باضابطہ طور پر نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی اس پہل سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان سابق رہنماؤں کی مہم کو خود ساختہ قرار دیا ہے۔ تاہم این ڈی سی کا مؤقف ہے کہ ملک میں سیاسی اور آئینی استحکام کے لیے تمام فریقین سے بات چیت ناگزیر ہے اور وہ یہ کوشش اچھے مقاصد کے تحت کر رہے ہیں۔