Politics
پاکستان اور بیلاروس کا ایس سی او اجلاس کے موقع پر دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بیلاروس اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ رہنماؤں کے مابین ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کونسل آف وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر بیلاروس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ کرغزستان کے شہر چھولپان آتا میں منعقدہ اس اہم کثیرالجہتی اجلاس کے دوران پاکستانی وفد نے مختلفممالک کے رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں علاقائی رابطوں، اقتصادی شراکت داری اور سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور تجارتی راہداریوں کو مزید فعال بنانا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو عملی اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔ اجلاس کے دوران روس اور چین سمیت دیگر رکن ممالک کے نمائندوں نے بھی خطے میں درپیش معاشی اور سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ایس سی او جیسے پلیٹ فارمز پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارتی اور سفارتی فاصلے مٹانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کا بیلاروس اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کا یہ فیصلہ خطے میں نئی معاشی راہیں کھولے گا اور اس سے پاکستان کے خارجہ امور اور سفارتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔