LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام بحران اور واجبات کی ادائیگی

News Image
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے جہاں ہسپتالوں کے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کے واجبات ادا نہیں کیے جا سکے۔ ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ سے صوبے بھر کے ہزاروں مریضوں کو علاج معالجے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کو اس وقت ایک شدید مالی بحران کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے صحت کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، صوبے اور ملک بھر کے مختلف نامور ہسپتالوں کے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے جا سکے ہیں۔ ادائیگیاں نہ ہونے کی بنیادی وجہ فنڈز کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ اور انتظامی تاخیر بتائی جا رہی ہے، جس کے اثرات اب براہ راست عام غریب عوام اور مستحق مریضوں پر پڑ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ادائیگیوں میں تقریباً چھ ماہ سے زائد کی تاخیر ہو چکی ہے، جس نے ہسپتالوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طبی عملے کی تنخواہوں، ادویات کی خریداری اور دیگر طبی اخراجات کو پورا کرنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث بہت سے نجی اور سرکاری پینل ہسپتالوں نے ہیلتھ کارڈ کے تحت مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کو محدود یا عارضی طور پر معطل کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے ہزاروں مریض دردر کی ठोکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے متعلقہ واجبات کی رقم متعلقہ انشورنس ادارے کو منتقل کی جا चुकी ہے، تاہم ہسپتالوں کے اکاؤنٹس تک یہ فنڈز نہ پہنچنے کے باعث اب بھی ابہام برقرار ہے۔ اس پورے معاملے نے ہیلتھ کارڈ پروگرام کے مستقبل کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جو کہ عوام کے لیے فلاحی منصوبوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب، ہسپتالوں کے مالکان، سول سوسائٹی اور متاثرہ مریضوں نے حکومتِ بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری طور پر نوٹس لے۔ انہوں نے زور دیا کہ بقایا جات کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہیلتھ کارڈ پروگرام مکمل طور پر بحال ہو سکے اور غریب و مستحق مریض بغیر کسی تعطل کے مفت اور بہتر علاج کی سہولیات سے فیض یاب ہو سکیں۔