LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں صاف توانائی کا انقلاب، 2035 تک 90 فیصد ہدف مقرر

News Image
پاکستان نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے اور سستی توانائی کے فروغ کے لیے 2035 تک قابل تجدید اور صاف توانائی کے تناسب کو 90 فیصد تک لے جانے کا تہیہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت شمسی توانائی اور دیگر ماحول دوست ذرائع کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی اور انقلابی ہدف کا اعلان کرتے ہوئے 2035 تک ملک میں صاف اور ماحول دوست توانائی کا حصہ بڑھا کر 90 فیصد تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ملک میں شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد حکومت نے توانائی کی طویل مدتی پالیسی کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، تقسیم شدہ شمسی توانائی نے اکیلے سال 2025 کے دوران پاکستان کی مجموعی بجلی کی فراہمی کا 27 فیصد حصہ پورا کیا، جو کہ ملکی تاریخ میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس مثبت رجحان نے حکومتی حلقوں اور توانائی کے ماہرین کو اس بات پر قائل کیا ہے کہ اگر درست سمت میں پالیسیاں جاری رکھی جائیں تو ملک روایتی اور مہنگے ایندھن پر انحصار کم کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، توانائی کے شعبے کو درپیش مالیاتی اور انتظامی چیلنجز پر بھی مسلسل بحث جاری ہے۔ توانائی کے ماہرین اور حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بعض پالیسی مسائل اور پابندیوں کی وجہ سے سستی توانائی کے حصول میں کچھ رکاوٹیں ضرور حائل ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اصلاحات پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ دن کے وقت دستیاب سستی بجلی کو صارفین تک باآسانی پہنچانے کے لیے گرڈ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تعاون اور چینی اداروں کی معاونت سے گرڈ کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ حکومت کا یہ وژن نہ صرف ملکی معیشت کو ایندھن کے مہنگے درآمدی بلوں سے نجات دلائے گا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے بین الاقوامی عزم کی تکمیل میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نجی شعبے کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں اور سولرائزیشن کے عمل کو قانونی تحفظ دیا جائے تو مقررہ مدت یعنی 2035 سے پہلے بھی یہ اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔