Entertainment
اریانہ گرینڈے وزن میں کمی بحث اور پیئرس مورگان کا ردعمل
مشہور امریکی گلوکارہاریانہ گرینڈے کے وزن میں کمی اور جسمانی ساخت پر ہونے والی تنقید کے معاملے پر معروف برطانوی صحافی پیئرس مورگان نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب گلوکارہ نے عوامی توجہ اور غیر ضروری تبصروں سے کچھ عرصے کے لیے دور رہنے کا اعلان کیا۔
معروف پاپ اسٹار اریانہ گرینڈے کے وزن میں کمی اور ان کی جسمانی ساخت کے حوالے سے سوشل میڈیا اور میڈیا پر جاری بحث میں اب نامور برطانوی صحافی اور میزبان پیئرس مورگان بھی کود پڑے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گلوکارہ کی ظاہری شکل اور وزن میں کمی کو لے کر عوامی حلقوں میں شدید چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں، جس پر شوبز شخصیات کی جانب سے بھی ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح عوامی شخصیات بالخصوص خواتین فنکاروں کو ان کے جسمانی خدوخال کی وجہ سے مسلسل اور بے جا جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ اریانہ گرینڈے اپنے دورے کے اختتام کے بعد عوامی نظروں سے کچھ فاصلہ اختیار کر رہی ہیں اور اپنی مصروفات میں وقفہ لے رہی ہیں۔ ان کے نمائندے کی طرف سے واضح کیا گیا تھا کہ یہ وقفہ پہلے سے طے شدہ تھا اور گلوکارہ کو اپنی نجی زندگی اور ذہنی سکون کے لیے حدیں مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں اور ناقدین کی جانب سے ان کے وزن کو لے کر مختلف قسم کے تبصرے کیے گئے، جن پر گلوکارہ نے بھی ماضی میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ جسم پر ہونے والے منفی تبصرے اب حد سے بڑھ چکے ہیں۔
پیئرس مورگان نے اس پوری بحث پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح جدید دور میں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر کسی کی بھی جسمانی ساخت پر کھل کر تنقید کی جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی وکالت کی کہ عوامی شخصیات کو بھی ایک انسان کے طور پر سمجھا جانا چاہیے اور ان کی ذاتی زندگی کا احترام کیا جانا لازمی ہے۔ دنیا بھر میں فنکاروں کے حقوق اور ذہنی صحت کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی اس بات کی مذمت کرتی رہی ہیں کہ سوشل میڈیا پر باڈی شیمنگ یا جسمانی تضحیک کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جو کہ کسی بھی فنکار کی ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
اریانہ گرینڈے کے چاہنے والے اس وقت دنیا بھر میں اپنی پسندیدہ فنکارہ کی حمایت میں سامنے آ رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ہونے والی منفی مہم کی سخت الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ میڈیا اور مداحوں کو فنکاروں کے فن اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے نہ کہ ان کے وزن یا ظاہری حلیے پر۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہمیں ایک معاشرے کے طور پر زیادہ حساس بننا چاہیے اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا چاہیے تاکہ کسی کی بھی ذاتی زندگی بلاوجہ متاثر نہ ہو۔