World
غزہ میں بچوں کے لیے کھیل کا مرکز قائم، فلسطینی باپ کی انوکھی پہل
غزہ میں ایک فلسطینی باپ نے بچوں کو اسرائیلی حملوں کی ہولناکی سے بچانے کے لیے ایک مفت کھیل کا مرکز قائم کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا اور انہیں کچھ دیر کے لیے ذہنی سکون فراہم کرنا ہے۔
غزہ میں جاری شدید مشکلات اور تقریباً روزانہ کے اسرائیلی حملوں کے درمیان ایک فلسطینی باپ نے مقامی بچوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے۔ اس پُرعزم شخص نے بچوں کے لیے ایک ایسا کھیل کا مرکز کھولا ہے جہاں وہ مفت آ کر کھیل سکتے ہیں اور جنگ کی خوفناک فضا سے کچھ دیر کے لیے باہر نکل سکتے ہیں۔ اس مرکز کا بنیادی مقصد معصوم بچوں کو جنگ کے صدمات سے نکالنا اور انہیں ذہنی سکون فراہم کرنا ہے۔
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے لاکھوں بچے تعلیم، تفریح اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس کٹھن صورتحال میں اس پلے سینٹر کا قیام بچوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ یہاں آنے والے بچوں کو مختلف کھیلوں کے ذریعے مسکرانے اور ہنسنے کا موقع ملتا ہے، جو ان کی ذہنی صحت اور بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مرکز کا مقصد ہر آنے والے بچے کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ بھی دنیا کے باقی بچوں کی طرح اہمیت رکھتے ہیں۔
اس مرکز کے قیام سے نہ صرف بچوں کو تفریح ملتی ہے بلکہ والدین کو بھی اپنے بچوں کے چہروں پر خوشیاں دیکھ کر کچھ حوصلہ ملتا ہے۔ اس طرح کے فلاحی اقدامات غزہ کے عوام کی پائیداری اور زندگی کی جنگ لڑنے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ مشکلات کے اس پہاڑ کے نیچے بھی فلسطینی عوام اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور بچپن کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، جو ان کی دلیری اور حوصلے کی واضح دلیل ہے۔