LIVE
Loading Breaking News...

عراق میں اسلحہ چھوڑنے کا بحران، شیعہ مسلح گروہوں کا انکار

News Image
عراق کو ایک نئے اور سنگین سیاسی و عسکری بحران کا سامنا ہے کیونکہ طاقتور شیعہ نیم فوجی تنظیموں نے مقررہ آخری تاریخ کے قریب آنے کے باوجود ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عراقی حکومت کے اس فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے دباؤ میں ہیں، جس سے ملک میں اندرونی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عراق اس وقت ایک انتہائی سنگین اور نازک سیاسی و سکیورٹی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے جب طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں نے حکومت کی جانب سے دی گئی ہتھیار ڈالنے کی آخری تاریخ کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ عراقی حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تمام مسلح گروہوں کو ریاست کی رٹ کے اندر لایا جائے اور غیر قانونی ہتھیاروں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ملک میں طویل مدتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے اس عمل کے لیے تیس ستمبر کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی تھی جس کے قریب آتے ہی حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملک کے مؤثر اور بااثر شیعہ مسلح گروہوں کا اصرار ہے کہ ان کے پاس موجود عسکری صلاحیتیں ملک کی دفاعی ضرورت ہیں اور وہ فی الحال ہتھیار چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اس صورتحال نے عراقی وزیر اعظم کو انتہائی مشکل اور گھمبیر پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے کیونکہ ایک طرف ان پر اندرونی اصلاحات اور سکیورٹی فورسز کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کا دباؤ ہے تو دوسری طرف بااثر عسکری دباؤ ان کی انتظامیہ کی صلاحیت کو چیلنج کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس تنازع کو سفارتی اور بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو ملک میں ایک بار پھر داخلی محاذ آرائی کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے۔ عراقی حکام صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سیاسی رہنماؤں اور عسکری کمانڈروں کے ساتھ ہنگامی مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔ بین الاقوامی برادری بھی عراق کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ خطے میں کسی بھی قسم کا نیا بحران پوری مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو براہ راست متاثر کر سکتا ہے۔ عراقی عوام اور سول سوسائٹی بھی اس غیر یقینی صورتحال پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور ملک میں امن و امان کی مستقل بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔