World
سعودی عرب میں جزوی اراضی اور جائیداد کی ملکیت کا نیا فیصلہ
سعودی عرب کی حکومت نے ملک کے اندر مخصوص افراد کو جائیداد اور اراضی کی جزوی ملکیت حاصل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ حقیقی جائیداد کے شعبے کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
ریاض: سعودی عرب کی حکومت نے ملک کے معاشی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت مخصوص افراد کو اراضی اور جائیداد کی جزوی ملکیت کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اقدام ملک کے اقتصادی وژن کے عین مطابق ہے تاکہ بین الاقوامی اور مقامی سطح پر سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے جا سکیں۔ حکام کے مطابق اس نئی پالیسی سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے عمل کو انتہائی آسان بنایا جا رہا ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کار بھی اس شعبے سے مستفید ہو سکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں معاشی تنوع لانے کے لیے اس قسم کے اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں، جو ملک کی معیشت کو تیل پر انحصار کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت اجازت پانے والے افراد اب ضابطہ کار کے مطابق جائیداد کے مخصوص حصے یا شیئرز کی ملکیت رکھ سکیں گے، جس سے جائیداد کی خرید و فروخت کا انداز بھی تبدیل ہوگا۔ حکومت کی جانب سے اس عمل کو شفاف اور قانونی طور پر محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری قواعد و ضوابط بھی مرتب کر دیے گئے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جا سکے اور کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔