LIVE
Loading Breaking News...

یروشلم کے مذہبی مقامات کا تحفظ: عرب اور مسلم سفارت کاروں کا نیا لائحہ عمل

News Image
عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک نیا لائحہ عمل شروع کیا ہے تاکہ یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کا تحفظ کیا جا سکے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ان مقدس مقامات کو تاریخ میں کبھی اتنے شدید خطرات کا سامنا نہیں رہا جتنا اب ہے۔
مشرق وسطیٰ کے اہم عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ یروشلم (القدس) میں واقع اسلامی اور مسیحی مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے ایک جامع لائحہ عمل کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد تاریخی شہر میں موجود مقدس مقامات کو درپیش شدید خطرات سے نمٹنا اور بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے موثر آواز اٹھانا ہے۔ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ حالات میں تمام تاریخی اور مذہبی ورثے کو سنگین نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اجلاس میں شریک تمام رہنماؤں کا اس امر پر اتفاق تھا کہ القدس کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ مسیحی اور اسلامی مقدس مقامات کو اس وقت اسرائیلی اقدامات کی وجہ سے ایسے خطرات کا سامنا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف خطے کا امن بلکہ عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی بھی شدید داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ سفارت کاروں نے عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور یروشلم کے تشخص کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس لائحہ عمل کے تحت سفارتی سطح پر دباؤ بڑھانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے تاکہ مقدس مقامات کے تقدس کو پامال ہونے سے روکا جا سکے اور وہاں کے باسیوں اور زائرین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔