Politics
کراچی میں پی ٹی آئی کا احتجاج، ٹریفک معطل اور مظاہرین گرفتار
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر کراچی پریس کلب کے قریب احتجاج کیا گیا جس کے باعث شدید ٹریفک جام ہو گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جبکہ متعدد کارکنان کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔
کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر کراچی پریس کلب کے قریب ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس احتجاج کے نتیجے میں شہر کے وسطی علاقوں میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا اور مسافروں کو گھنٹوں طویل ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ کی جانب سے پریس کلب کی طرف جانے والے تمام راستوں پر کنٹینرز کھڑے کر کے سیل کر دیا گیا تھا تاکہ مظاہرین کو وہاں پہنچنے سے روکا جا سکے۔ اس صورتحال کے باعث صدر ٹاؤن، ایم اے جناح روڈ اور اطراف کی سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
پولیس نے اس دوران کارروائی کرتے ہوئے بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔ پی ٹی آئی قیادت کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے پرامن مظاہرین پر تشدد کیا اور صوبے کے مختلف شہروں جن میں حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ، عمرکوٹ، مٹھی اور دیگر علاقے شامل ہیں، وہاں بھی احتجاج ریکارڈ کروائے گئے۔ پارٹی کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر سے پولیس نے پندرہ سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا جن میں ڈاکٹر مسرور سیال بھی شامل ہیں۔ حلیم عادل شیخ اور راجہ اظহার کی قیادت میں نکالے گئے اس احتجاج میں شرکاء نے عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب، ٹریفک کی اس گھمبیر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صوبائی آئی جی اور کراچی کے ایڈیشنل آئی جی کو فوری طور پر ٹریفک کی روانی بحال کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر، اولڈ سٹی ایریا اور زینب مارکیٹ سمیت تمام اہم شاہراہوں پر ٹریفک کو فوری طور پر کلیئر کیا جائے اور اضافی نفری تعینات کی جائے۔ اس کے علاوہ، صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بھی ٹریفک ڈی آئی جی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہونا چاہیے اور متبادل راستوں کا فوری بندوبست کیا جائے۔
ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی پی ٹی آئی کی جانب سے کرنل شیر خان شہید روڈ (سابقہ آئی جی پی روڈ) پر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پارٹی رہنماؤں عامر مغل اور ملک عامر علی اعوان نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر ملکی مسائل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ حیدرآباد میں بھی احتجاج ریکارڈ کیا گیا جو کہ پرامن رہا اور وہاں کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس احتجاج سے کراچی کے شہریوں کو روزمرہ کے امور میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔