LIVE
Loading Breaking News...

جسمانی ورزش دل کے مریضوں کے لیے فالج کا خطرہ کیسے کم کرتی ہے

News Image
نئی طبی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے مریضوں میں فالج اور قبل از وقت موت کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ ماہرین صحت نے ایسے مریضوں کو معالج کے مشورے سے ہلکی یا معتدل ورزش اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔
طبی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک نئی اور اہم تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور ورزش دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے مرض (ایٹریل فیبریلیشن) میں مبتلا افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، ایسے مریض جو روزمرہ کی زندگی میں مناسب جسمانی سرگرمی کو برقرار رکھتے ہیں، ان میں فالج کا دورہ پڑنے اور قبل از وقت موت کے خطرات میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ دل کی یہ کیفیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے، جس میں مریضوں کو فالج اور دیگر پیچیدگیوں کا سنگین خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے طویل عرصے تک مریضوں کی روزمرہ عادات اور ان کی صحت کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ نتائج سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہلکی سے لے کر معتدل درجے کی جسمانی ورزش دل کے عضلات کو مضبوط بناتی ہے، خون کی گردش کو بہتر کرتی ہے اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں اور کارڈیالوجسٹس کا کہنا ہے کہ دل کی دھڑکن کے مریضوں کے لیے مکمل آرام کرنے کے بجائے محفوظ حدود میں رہ کر جسمانی سرگرمی جاری رکھنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ تاہم، ماہرین صحت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ دل کے مریضوں کو کوئی بھی نئی ورزش یا سخت جسمانی سرگرمی شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج یا کارڈیالوجسٹ سے لازمی مشورہ کرنا چاہیے۔ مریضوں کی حالت، عمر اور بیماری کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر ایک محفوظ ورزش کا روٹین تجویز کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس احتیاطی تدبیر پر عمل کیا جائے تو جسمانی سرگرمی اس سنگین بیماری کے منفی اثرات کو زائل کرنے اور مریضوں کی زندگی کا معیار بہتر بنانے میں ایک اہم ترین ذریعہ بن سکتی ہے۔