LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں یہودی طلباء یہود دشمنی کا شکار، شناخت چھپانے پر مجبور

News Image
برطانیہ کی جامعات میں زیر تعلیم یہودی طلباء نے کیمپس کی زندگی کو خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسلسل یہود دشمنی کا سامنا ہے۔ طلباء کے مطابق جسمانی اور زبانی بدتمیزی کے خوف سے انہیں اپنی یہودی شناخت چھپانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
برطانیہ کی مختلف جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے یہودی طلباء نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کیمپس کے اندر مسلسل یہود دشمنی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ماحول اس قدر کشیدہ ہو چکا ہے کہ انہیں اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت ظاہر کرنے سے بھی ڈر لگنے لگا ہے۔ برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں کئی طلباء نے بتایا کہ وہ کیمپس میں محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ متاثرہ طلباء نے مزید بتایا کہ انہیں خوف ہے کہ اگر انہوں نے اپنی شناخت ظاہر کی تو انہیں جسمانی تشدد یا زبانی گالی گلوچ کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب متعدد طلباء اپنے عقائد کی علامتیں چھپانے اور یونیورسٹی کی سرگرمیوں میں محتاط ہو کر شرکت کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال ان کی ذہنی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، کیونکہ وہ ہر وقت خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ دوسری جانب برطانوی جامعات کی انتظامیہ اور طلبا یونینز نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں نفرت انگیز رویوں یا تعصب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور تمام طلباء کے تحفظ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقداماتن کرنے اور متاثرہ طلباء کو کونسلنگ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ تاہم، سول سوسائٹی اور یہودی برادری کے نمائندوں کا ماننا ہے کہ محض بیانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعات میں یہود دشمنی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سختی سے روکا جائے تاکہ ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے طالبعلم بغیر کسی خوف کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔