Education
طالب علم قرضوں کی واپسی: چانسلر سے فوری جائزے کا مطالبہ
برطانیہ میں پارلیمنٹ کے ایک سو بیس سے زائد اراکین نے چانسلر کے نام خط میں طالب علموں کے قرضوں کی واپسی کو ناقابلِ برداشت بوجھ قرار دیا ہے۔ اراکین نے اس پورے نظام کا فوری جائزہ لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ میں طالب علموں کے قرضوں کی واپسی کا نظام ایک بار پھر شدید بحث کی زد میں آ گیا ہے جہاں ایک سو بیس سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ اور پیئرز نے حکومت سے اس معاملے پر فوری اور جامع نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان اراکین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ پالیسیاں نوجوان نسل کے لیے شدید معاشی مشکلات پیدا کر رہی ہیں اور اس نظام کو مزید جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ شرائط کے تحت گریجویٹس پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ یہ ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹیرینز نے چانسلر کے نام لکھے گئے ایک باضابطہ خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے جو قرضوں کی ادائیگی کے موجودہ طریقوں اور شرح سود کا بغور جائزہ لے۔ اراکین کا مؤقف ہے کہ تعلیم کے حصول کے لیے لیے جانے والے قرضے نوجوانوں کے لیے مددگار ہونے کی بجائے ایک مستقل معاشی دلدل بنتے جا رہے ہیں، جس سے نجات حاصل کیے بغیر وہ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی درست طریقے سے نہیں کر پا رہے۔
تعلیمی ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں نے بھی اس پارلیمانی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ گریجویٹس کے لیے روزگار کے موجودہ مواقع اور مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے قرضوں کی واپسی کی شرائط کو نرم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر اس مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو نہ صرف نوجوان طبقے میں مایوسی بڑھے گی بلکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے رجحان میں بھی نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ وزارت کی جانب سے تحال اس خط کے جواب میں کسی حتمی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم سیاسیحلقوں میں یہ معاملہ اب ایک اہم بحث کا رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔