World
یوکرین میں انٹرسیپٹرز کی کمی، فضائی دفاعی نظام کمزور ہونے کا انتباہ
یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ پیٹریاٹ میزائلوں کی شدید کمی کی وجہ سے روسی حملوں کے دوران شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ فضائی دفاعی نظام کی عدم دستیابی کے باعث یوکرین کا آسمان دشمن کے حملوں کے سامنے غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
کیيف پر ہونے والے ایک اور تباہ کن حملے کے بعد یوکرین کے حکام نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں دفاعی انٹرسیپٹرز کی قلت اب براہ راست انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔ یوکرین کے فضائی حدود کو روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید ترین دفاعی نظام کی اشد ضرورت ہے، تاہم درکار وسائل کی کمی نے صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت فضائی دفاعی مدد نہ ملنے کی وجہ سے عام شہری براہ راست حملوں کی زد میں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، پیٹریاٹ (Patriot) انٹرسیپٹرز کی عدم دستیابی کی وجہ سے یوکرین کا آسمان روسی میزائلوں کے سامنے عملاً کھلا ہوا ہے۔ جب بھی دشمن کی جانب سے میزائلوں کی بوچھاڑ کی جاتی ہے تو دفاعی نظام کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ تمام فضائی اہداف کو ناکام بنا سکے۔ اس کٹھن صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ رہائشی علاقے بھی شدید نقصان کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے معصوم شہریوں کی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یوکرین کی قیادت نے عالمی برادری اور مغربی اتحادیوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر دفاعی سازوسامان اور بالخصوص انٹرسیپٹرز کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تاخیر کا خمیازہ مزید قیمتی انسانی جانوں کی صورت میں چکانا پڑ رہا ہے۔ اگر فوری طور پر جدید فضائی دفاعی نظام فراہم نہ کیا گیا تو صورتحال مزید قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔