Sports
پاکستان اور ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز برابر، پاکستان کی شاندار فتح
پاکستان نے کوئنز پارک اوول میں کھیلے گئے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کے چوتھے دن ویسٹ انڈیز کو آٹھ وکٹوں سے ہرا کر دو میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کردی۔ اس شاندار فتح کے ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے بیرون ملک مسلسل آٹھ ٹیسٹ شکستوں کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔
پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی اور دو میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔ ٹرینیڈاڈ کے کوئنز پارک اوول میں کھیلے گئے اس میچ میں پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم نے کم بیک کیا اور سیریز برابر کرنے میں کامیاب رہی۔ میچ کے چوتھے روز ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کا آغاز خراب رہا اور وہ اپنے گزشتہ شب کے اسکور 103 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پر مزید کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ کر سکے۔ میزبان ٹیم کی پوری ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 117 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کو جیت کے لیے محض 75 رنز کا آسان ہدف ملا۔ پاکستانی بولنگ اٹیک میں بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عزم اور فاسٹ بولر محمد علی نے آخری وکٹیں جلدی حاصل کر کے ویسٹ انڈیز کی اننگز تمام کی۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے ابتدائی دو بلے باز جلد آؤٹ ہو گئے تاہم عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو ہدف تک پہنچایا۔ کپتان بابر اعظم نے اسپنر جومেল واریکن کو مسلسل دو چھکے لگا کر فتح کو یقینی بنایا۔ عبداللہ شفیق اس میچ کے ہیرو رہے جنہیں شان مسعود کے زخمی ہونے پر اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا، اور انہوں نے پہلی اننگز میں 160 رنز کی شاندار ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ اس فتح کے ساتھ پاکستان نے 1977 کے بعد کوئنز پارک اوول کے میدان پر پہلی بار کوئی ٹیسٹ میچ جیتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کامیابی نے پاکستان کے بیرون ملک مسلسل آٹھ ٹیسٹ میچوں میں شکست کے طویل اور مایوس کن سلسلے کا بھی خاتمہ کر دیا ہے۔ پاکستان کے اسپنرز ساجد خان اور علی عزم نے پوری سیریز اور خاص طور پر اس میچ میں اہم کردار ادا کیا، جن کی بہترین بولنگ کی بدولت میزبان ٹیم کے بلے باز ٹک نہ سکے۔