LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسداد دہشت گردی کا نیا مذاکراتی دور

News Image
پاکستان اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں انسدادِ دہشت گردی کے مذاکرات کا چوتھا دور منعقد ہوا جس میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون مزید گہرا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے مذاکرات کا چوتھا دور کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے دہشت گرد گروہوں کے خاتمے اور سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس اہم ملاقات کی قیادت امریکی کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ دہشت گردی سفیر گریگری لوگر فو اور وزارتِ خارجہ کے سپیشل سیکرٹری سفیر نبیل منیر نے مشترکہ طور پر کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق، اس بات چیت نے دونوں ممالک کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا اور دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے غیر متزلزل عزم کو دہرایا۔ مذاکرات کے دوران دونوں وفود نے خطے میں موجود سکیورٹی کے موجودہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے نئے راستے تلاش کیے۔ اس موقع پر سرحدوں کی سکیورٹی کو مزید سخت کرنے اور دہشت گردوں کو ملنے والی مالی اور لاجسٹک مدد کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے اقدامات پر بھی سیرحاصل گفتگو کی گئی۔ اعلامیے میں خاص طور پر داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت ان تمام تنظیموں کا نام لیا گیا جو خطے کے امن اور دونوں ممالک کے شہریوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ دونوں حکومتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی پائیدار ترقی کے لیے ان عناصر کا قلع قمع ناگزیر ہے۔ ادھر دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فریقین نے علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خطرات پر تفصیلی مشاورت کی اور دوطرفہ اور کثیر جہتی فورمز پر اس تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عہد کیا۔ سال 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں اس تازہ ترین سفارتی مصروفیت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تعاون اور معاشی استحکام جیسے شعبوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر توجہ مرکوز کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اسی پس منظر میں، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد سے امریکہ کے تجارتی نمائندے سفیر جیمیسن گریر کے ساتھ ایک اہم ورچوئل ملاقات بھی کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون کو فروغ دینے والے تجارتی معاہدے کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی اور معاشی شراکت داری کو وسعت دے کر پاکستان کی برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کو سہارا دیا جا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی گرم جوشی لائی جا سکتی ہے۔