LIVE
Loading Breaking News...

کوویت میں ستر سالہ کارکنوں کے لیے نئی پالیسی اور پابندیاں

News Image
کوویت حکومت نے ملک میں لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ستر سال سے زائد عمر کے غیر ملکی کارکنوں کے اقامے کی تجدید پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے ہزاروں تارکین وطن متاثر ہوں گے جنہیں اپنے آبائی ممالک واپس جانا پڑ سکتا ہے۔
کوویت کی حکومت نے ملک کے اندرونی نظام اور لیبر مارکیٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک سخت اور اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ستر سال یا اس سے زائد عمر کے غیر ملکی کارکنوں کے اقاموں کی تجدید پر پابندی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کی آبادی کے تناسب کو متوازن کرنا اور مقامی افرادی قوت کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ خلیجی ملک کوویت میں اس حوالے سے پہلے ہی مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا تھا، اور اب اس پر عمل درآمد کے لیے حتمی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد کوویت میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے کئی بزرگ غیر ملکی کارکنوں کو اپنے آبائی ممالک واپس لوٹنا پڑ سکتا ہے۔ اس پالیسی کا اطلاق ان تمام نجی اداروں اور کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد پر ہوگا جو مقررہ عمر کی حد کو عبور کر چکے ہیں۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نجی شعبے میں نوجوان اور نئی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے راہیں کھلیں گی، جس سے مجموعی کارکردگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کچھ شعبوں میں تجربہ کار اور طویل عرصے سے کام کرنے والے ماہرین کی اچانک روانگی سے عارضی طور پر خالی پن بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے کمپنیاں متبادل انتظامات پر غور کر رہی ہیں۔ کوویت کے پبلک اتھارٹی فار مین پاور اور دیگر متعلقہ محکمے اس فیصلے پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ متاثرہ کارکنوں اور ان کے آجروں کو اس تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے کے لیے وقت بھی دیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے امور کو سمیٹ سکیں۔ اس قانون کے نفاذ سے خلیجی خطے میں لیبر اصلاحات کے حوالے سے جاری بحث میں مزید تیزی آگئی ہے کیونکہ دیگر ممالک بھی اسی طرح کی پالیسیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔