LIVE
Loading Breaking News...

درزی کا بیٹا کینیڈین اے آئی فرم میں کروڑوں کی نوکری پر تعینات

News Image
آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک درزی کے بیٹے اکھلیش مالتی نے کینیڈا کی معروف فرم فابرٹک اے آئی میں ریموٹ آرٹیفیشل انٹیلی جنس انجینئر کی حیثیت سے شاندار ملازمت حاصل کر لی ہے۔ انہیں کیمپس پلیسمنٹ کے ذریعے سالانہ ایک کروڑ چھ لاکھ روپے سے زائد کا بھاری بھرکم پیکج ملا ہے۔
انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے دور میں محنت اور لگن انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے، اس کی ایک روشن مثال آندھرا پردیش کے اکھلیش مالتی ہیں جنہوں نے انتہائی معمولی پس منظر سے اٹھ کر ایک شاندار کامیابی اپنے نام کی ہے۔ اکھلیش کے والد پیشے کے اعتبار سے ایک عام درزی ہیں، جنہوں نے تمام تر مالی مشکلات کے باوجود اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اکھلیش نے اپنی محنت اور اعلیٰ صلاحیتوں کے بل بوتے پر اب کینیڈا کی معروف مصنوعی ذہانت (AI) کی فرم 'فابرٹک اے آئی' میں ریموٹ بیسز پر اے آئی انجینئر کی حیثیت سے نوکری حاصل کر لی ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف ان کے خاندان کی مالی حالت بدل دی ہے بلکہ پورے علاقے میں ان کا نام روشن کر دیا ہے۔ حاصل کی گئی اس بڑی کامیابی کی مالیت بھی انتہائی متاثر کن ہے، کیونکہ کیمپس پلیسمنٹ کے ذریعے اکھلیش کو جو سالانہ پیکیج ملا ہے وہ ایک کروڑ چھ لاکھ روپے سے زائد بنتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس تیزی سے دنیا بھر کی معیشت اور روزگار کے مواقع کو تبدیل کر رہی ہے، وہیں اس شعبے میں مہارت رکھنے والے نوجوانوں کے لیے بے شمار نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ اکھلیش مالتی کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کسی کے پاس جدید تکنیکی ہنر اور درست سمت میں محنت کا جذبہ ہو، تو تعلیمی ادارے یا خاندانی پس منظر رکاوٹ نہیں بنتے۔ انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی انجینئرز کی مانگ میں تاریخی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس نوعیت کی کامیابیاں نوجوان نسل کے لیے ایک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں جو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں۔ اکھلیش مالتی کے اس سفر نے ثابت کر دیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عزم مصمم اور کڑی محنت کے ذریعے کسی بھی بلند منزل کو چھوا جا سکتا ہے۔ کینیڈین فرم کے ساتھ اس بڑے معاہدے کے بعد اب وہ اپنے گھر بیٹھے بین الاقوامی معیار کا کام انجام دیں گے، جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھرنے کا موقع ملے گا۔ آندھرا پردیش کے اس ہونہار نوجوان کی کامیابی پر نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پورا تعلیمی حلقہ فخر محسوس کر رہا ہے اور یہ خبر ملک بھر میں سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔