LIVE
Loading Breaking News...

لوسیڈ گروپ دیوالیہ پن کے قریب: برقی گاڑیوں کی صنعت کو بڑا دھچکا

News Image
برقی گاڑیوں کی معروف کمپنی لوسیڈ گروپ کو شدید مالی بحران اور لیکویڈیٹی کے مسائل کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کی مالی معاونت کے باوجود کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ننانوے فیصد تک نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔
برقی گاڑیوں کی صنعت کو ایک روشن مستقبل قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب اس میدان میں نمایاں مقام رکھنے والی سعودی حمایت یافتہ کمپنی لوسیڈ گروپ کو سنگین نوعیت کے مالیاتی اور بیلنس شیٹ کے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، لوسیڈ گروپ نے اپنے سرمائے کا بڑا حصہ خرچ کر ڈالا ہے جس کی وجہ سے کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ مارکیٹ میں اس کمپنی کے حصص کی قدر میں ننانوے فیصد تک کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آٹوموبائل کی دنیا میں برقی گاڑیوں کے انقلاب کا دعویٰ کرنے والی یہ کمپنی اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں کمی اور پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے کمپنیوں کا نقد سرمایہ انتہائی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ لوسیڈ گروپ کو اگرچہ ابتدائی مراحل میں سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی جانب سے بھاری مالیاتی تعاون حاصل رہا، لیکن اس کے باوجود کمپنی کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ رہے ہیں۔ موجودہ معاشی حالات اور طلب میں کمی کے تناظر میں یہ بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف لوسیڈ بلکہ مجموعی طور پر ای وی انڈسٹری کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ اس صورتحال نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ صرف بڑے دعووں اور ابتدائی فنڈنگ پر انحصار کرنے والی کمپنیاں طویل مدتی معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کار اب اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں کیونکہ مارکیٹ کا اعتماد تیزی سے متزلزل ہو رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں کمپنی کی انتظامیہ کو اپنے مالیاتی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت فیصلے کرنا ہوں گے، ورنہ دنیا بھر میں برقی گاڑیوں کا یہ معروف نام تاریخ کا حصہ بن سکتا ہے۔