LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا آر بی آئی کو ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف سخت اقدامات کا حکم

News Image
سپریم کورٹ نے ریزرو بینک آف انڈیا کو جعلی اور فرضی بینک اکاؤنٹس کے خلاف ایک نیا معیاری طریقہ کار وضع کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانا ہے۔
نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے ڈیجیٹل گرفتاریوں اور آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو ہدایت کی ہے کہ وہ فرضی اور غیر قانونی بینک اکاؤنٹس، جنہیں 'میول اکاؤنٹس' کہا جاتا ہے، کے سدباب کے لیے فوری طور پر ایک جامع معیاری طریقہ کار (ایس او پی) تیار کرے۔ عدالت کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اکاؤنٹس کا استعمال مالیاتی فراڈ اور رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں ملک بھر کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ عوامی شکایات کے ازالے اور متاثرہ افراد کی رقوم کی واپسی کے موڈیولز کو فوری طور پر فعال کریں تاکہ عوام کو بروقت ریلیف مل سکے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سائبر کرائم سے نمٹنے والے کوآرڈینیشن مراکز کو بھی اس پورے نظام کے ساتھ مؤثر طریقے سے مربوط کیا جائے تاکہ مجرموں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل گرفتاریوں کے نام پر ہونے والے فراڈ اب ایک قومی مسئلہ بن چکے ہیں اور سپریم کورٹ کے اس سخت فیصلے سے نہ صرف بینکنگ نظام مزید محفوظ ہوگا بلکہ عام شہریوں کی جمع پونجی کو بھی تحفظ ملے گا۔ آر بی آئی کی جانب سے جلد ہی اس نئے ایس او پی کا اعلان متوقع ہے جس سے مالیاتی اداروں کے لیے فرضی اکاؤنٹس کی نشاندہی کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔