LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز معاہدہ: ایران اور بین الاقوامی مذاکرات کاروں میں اہم پیش رفت

News Image
بین الاقوامی مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تہران نے اومان کے ساتھ اس راستے کے کوآرڈینیٹس پر اتفاق کر لیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید ہے۔
بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں یہ اطلاعات زور پکڑ رہی ہیں کہ مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے حوالے سے ایران کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کی تیاری کے دوران کئی اہم امور پر پیش رفت ہوئی ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی واقع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تہران نے اومان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے محفوظ بحری راستے کے کوآرڈینیٹس پر اتفاق کر لیا ہے، جو اس بحران کے حل کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آنے والی بحری ٹریفک کے حوالے سے اہم کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ سمجھوتہ سابقہ امریکی پالیسیوں سے مختلف نوعیت کا ہے اور اس سے سمندری تجارت کی بحالی میں مدد ملے گی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے ایک بڑے حصے کا تیل اور گیس کا بحری بیڑہ گزرتا ہے۔ اس راستے کی بندش یا رکاوٹ نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا تھا، اور اس نئے ممکنہ معاہدے کے بعد عالمی معیشت کو سکھ کا سانس ملنے کی امید ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اس بحران کے تناظر میں یہ پیش رفت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ سفارتی سطح پر طویل عرصے سے ڈیڈ لاک کا شکار معاملات اب کسی منطقی انجام کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اومان نے اس سارے عمل میں ایک بار پھر کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے، جس نے ایران اور دیگر فریقین کے درمیان فاصلے مٹانے میں مدد کی۔ اگرچہ اس معاہدے کی حتمی شقوں اور شرائط پر ابھی مزید بات چیت جاری ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور عالمی بحری تجارت بلا تعطل بحال ہو سکے گی۔