Pakistan
بلوچستان اور گلگت بلتستان اسمبلیاں: بھارتی کشمیر اقدام کی مذمت
پاکستان بھر میں یوم استحصالِ کشمیر کے موقع پر سیاسی و عسکری قیادت نے کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ بلوچستان اور گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلیوں نے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔
کوئٹہ اور گلگت میں واقع صوبائی اسمبلیوں کے حالیہ اجلاسوں کے دوران بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف شدید قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ ایوانوں کے اراکین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر فورم پر کشمیری بھائیوں کے حقِ خودارادیت کی پُرزور حمایت جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر یوم استحصال کے تناظر میں ملک بھر میں ہونے والی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام صرف اور صرف مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں سول اور عسکری قیادت نے بھی اس عزم کو دہرایا کہ کشمیری عوام کے حقوق کی پامالیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔ صدرِ پاکستان اور وزیراعظم نے اپنے خصوصی پیغامات میں اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے یومِ استحصال جیسے اقدامات کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکتے۔ پاکستان تمام بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت بدستور جاری رکھے گا جب تک کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی حق ان کے حوالے نہیں کر دیا جاتا۔
دوسری جانب، پاکستان نے بھارت کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں مقبوضہ علاقے میں نام نہاد ترقیاتی اور معمول کے حالات کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ وفاقی وزارتِ امورِ کشمیر کے حکام نے دنیا کو یاد دلایا کہ قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور جبری گمشدگیاں خطے کے امن کو مسلسل داؤ پر لگا رہی ہیں۔ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں ہی اس تنازع کے حل کا واحد قابلِ قبول راستہ ہیں۔