LIVE
Loading Breaking News...

صباح حمید کی کاسٹنگ اور ٹی وی ڈراموں میں خواتین کے کردار

News Image
نامور پاکستانی اداکارہ صبا حمید کو ایک ہی سال میں مختلف ڈراموں میں ماں اور بیوی کے طور پر کاسٹ کیے جانے پر شوبز حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ نامور فنکاروں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ انڈسٹری میں بڑی عمر کی اداکاراؤں کے کرداروں کے انتخاب میں توازن کیوں نہیں رکھا جاتا۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اور مایہ ناز اداکارہ صبا حمید کی حالیہ کاسٹنگ نے ایک بار پھر میڈیا اور ناظرین کے درمیان اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ ٹیلی ویژن پر بڑی عمر کی خواتین یا ماؤں کے کرداروں کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں معروف اداکارہ ژالے سرحدی اور عتیقہ اوڈھو نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ صبا حمید کو ایک ہی سال کے دوران مختلف پراجیکٹس میں ایک طرف تو ماں کے روپ میں دکھایا گیا اور دوسری طرف وہ کسی مرکزی کردار کی بیوی کے طور پر بھی کاسٹ کی گئیں۔ ان فنکاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کاسٹنگ سے ناظرین میں الجھن پیدا ہوتی ہے اور یہ انڈسٹری کے روایتی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا اور شوبز کے حلقوں میں اس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے کہ آیا پاکستانی ڈرامہ ساز عمر رسیدہ اداکاراؤں کو محدود قسم کے کرداروں تک محدود کر رہے ہیں۔ عتیقہ اوڈھو نے اس معاملے پر کھل کر بات کرتے ہوئے کاسٹنگ کے انتخابی معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ناظرین کے لیے ایک ہی اداکارہ کو مختلف ڈراموں میں بیک وقت ماں اور بیوی کے کردار میں دیکھنا غیر فطری معلوم ہوتا ہے، جو کہ پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ بحث صرف صبا حمید تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی ٹیلی ویژن انڈسٹری میں کام کرنے والی تمام سینیئر اداکاراؤں کے حقوق اور ان کے احترام سے جڑی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مصنفین اور ہدایت کاروں کو ایسے کردار تخلیق کرنے چاہئیں جو سینیئر فنکاروں کی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف کریں، نہ کہ انہیں صرف فرضی اور لکیر کی فکیر والے روایتی خانوں میں فِٹ کر دیا جائے۔ مداحوں کی جانب سے بھی اس بحث پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں کچھ لوگ اسے تخلیقی آزادی قرار دے رہے ہیں، وہیں ایک بڑی تعداد اس بات کی متفقہ حامی ہے کہ کاسٹنگ میں زیادہ منطق اور حقیقت پسندی ہونی چاہئے۔