LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی کارکن کا دعویٰ: نوجوانوں کے احتجاج نے مودی کو کمزور کر دیا

News Image
بھارت میں حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے۔ بھوک ہڑتال کرنے والے ایک معروف بھارتی کارکن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
بھارت میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے ملکی سیاسی منظر نامے کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں ایک نمایاں بھارتی کارکن نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی طرف سے کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں نے وزیراعظم نریندر مودی کی پوزیشن کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس احتجاج نے حکومتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور عوام کے اندر موجود خوف کی فضا کو کسی حد تک ختم کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ احتجاجی تحریک، جسے عام طور پر کاکرُوچ موومنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں بھارتی وزیراعظم کے خلاف ہونے والے سب سے بڑے عوامی مظاہروں میں سے ایک ہے۔ اس تحریک نے ملک کے مختلف حصوں میں نوجوان طبقے کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، جنہوں نے حکومتی پالیسیوں اور جمہوری اقدار کی مبینہ پامالی کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔ اس تحریک میں شامل افراد کا مقصد حکومتی اقدامات پر کڑی تنقید کرنا اور ملک کے اندر جمہوری آزادیوں کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ بھوک ہڑتال کرنے والے اس کارکن نے انٹرویو میں مزید کہا کہ نوجوانوں کی یہ بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی عوام اب خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس نوعیت کے عوامی دباؤ نہ صرف حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ آنے والے وقت میں ملکی سیاست کی سمت کا بھی تعین کرتے ہیں۔ اس احتجاجی لہر نے مبصرین کی توجہ بھی مبذول کرائی ہے جو اسے موجودہ بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے زمینی ردعمل اور احتجاجی تحریکیں حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کا سبب بنتی ہیں۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے اس قسم کے احتجاج کو روکنے یا کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں، تاہم نوجوان طبقے کی طرف سے مسلسل مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوامی سطح پر ناراضی گہری ہوتی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تحریک کے اثرات بھارتی سیاست پر مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔