LIVE
Loading Breaking News...

ملائیشیا کا روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی سے انکار کا اعلان

News Image
ملائیشیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی روہنگیا پناہ گزین کو میانمار واپس نہیں بھیجے گی اگر ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو سراہا ہے جبکہ حکام پناہ گزینوں کی اسکریننگ کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ملائیشیا کی حکومت نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی روہنگیا پناہ گزین کو زبردستی میانمار واپس نہیں بھیجے گی، بالخصوص ایسے حالات میں جبکہ ان کی جانوں اور بنیادی حقوق کو شدید خطرات لاحق ہوں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے متنبہ کیا تھا کہ میانمار میں روہنگیا اقلیت کے لیے حالات اب بھی انتہائی غیر محفوظ اور خطرناک ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت ملک میں موجود تقریباً پانچ ہزار پناہ گزینوں کی جانچ پڑتال اور اسکریننگ کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ ان کی حقیقی قانونی حیثیت اور تحفظ کی ضروریات کا تعین کیا جا سکے۔ پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ملائیشیا کے اس عزم کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے خطے میں انسانی ہمدردی کی ایک بڑی مثال قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ میانمار میں فوجی حکومت کے تحت روہنگیا مسلمانوں کو منظم ظلم و ستم اور تشدد کا سامنا ہے، اس لیے انہیں واپس بھیجنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگا۔ ملائیشیا نے طویل عرصے سے ہزاروں روہنگیا پناہ گزینوں کو عارضی پناہ فراہم کی ہے اور اس تازہ ترین اعلان سے مہاجرین کے حقوق کے حامیوں کو بڑی تسلی ملی ہے۔ حکام نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ پناہ گزینوں کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔