LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا اقوام متحدہ میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خلاف موقف

News Image
پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا معاملہ بھی اٹھایا۔
واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ متعدد دہشت گرد گروہ اب بھی افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہوں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے روز بروز ایک سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات کے موضوع پر سلامتی کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے افغان سرزمین کے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر موثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اپنے خطاب میں پاکستانی مندوب نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے مجید بریگیڈ، داعش خراسان، اور دیگر شدت پسند تنظیموں کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ یہ گروہ افغانستان کے اندر آزادانہ ماحول سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ اگر ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو اس کے پورے خطے کے امن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ افغانستان میں دہشت گردی کے علاوہ پاکستانی مندوب نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کے فیصلوں کی ساتویں برسی کے تناظر میں بھارتی جبری اقدامات اور ریاستی دہشت گردی کا معاملہ بھی بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیریوں کے حق خودارضیت کے لیے جائز جدوجہد کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے بہانے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور اس سلسلے میں دوہرے معیار سے گریز کرنا لازمی ہے۔ پاکستانی سفیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب یا سرحد نہیں ہوتی، لہذا اس ناسور کے خاتمے کے لیے ایک مربوط اور غیر جانبدار بین الاقوامی حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔