LIVE
Loading Breaking News...

مڈل ایسٹ ڈیل کی امید پر وال اسٹریٹ میں ریکارڈ اضافہ اور نیسڈیک کی صورتحال

News Image
مڈل ایسٹ کے حوالے سے مثبت توقعات اور معاہدے کی امیدوں کے باعث وال اسٹریٹ پر ڈاؤ جونز اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ تاہم، اسپیس ایکس اور اے ایم ڈی کے حصص میں کمی کی وجہ سے نیسڈیک انڈیکس پر دباؤ دیکھا گیا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کے روز ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا جہاں مشرق وسطیٰ میں کسی ممکنہ امن معاہدے یا پیشرفت کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند کیے۔ اس مثبت پیشرفت کے نتیجے میں وال اسٹریٹ کے اہم اشاریے، ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج اور ایس اینڈ پی 500 نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ریکارڈ بلند ترین سطح کو چھو لیا۔ سرمایہ کاروں نے اس خطے میں تناؤ میں کمی کے امکانات کو خوش آئند قرار دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں خریداری کا رجحان بڑھا۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سیاسی اور جغرافیائی پیشرفتیں اکثر عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حصص بازار نے اس خبر پر فوری اور مثبت ردعمل ظاہر کیا۔دوسری جانب، تمام تر مثبت رجحان کے باوجود ٹیکنالوجی کے بڑے حصص سے وابستہ نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی بنیادی وجہ اسپیس ایکس اور اے ایم ڈی (AMD) جیسی بڑی کمپنیوں کے حصص میں ہونے والی گراوٹ تھی۔ ٹیکنالوجی سیکٹر میں منافع کی وصولی اور بعض مخصوص کارپوریٹ مسائل کے باعث سرمایہ کاروں نے ان کمپنیوں کے حصص سے گریز کیا، جس سے مجموعی طور پر نیسڈیک کی رفتار سست پڑ گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ کے اس دوہرے رویے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار فی الوقت ایک طرف جغرافیائی سیاسی خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تو دوسری طرف انفرادی کمپنیوں کی کارکردگی کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔اس صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ ایک طرف جہاں روایتی اور صنعتی حصص مثبت سمت میں جا رہے ہیں، وہیں ہائی ٹیک اور گروتھ سیکٹر کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ مالیاتی مشیروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید واضح ہونے کے بعد مارکیٹ کی سمت کا تعین زیادہ بہتر طریقے سے ہو سکے گا۔ اس دوران، تجارتی حجم اور معاشی اعشاریے بھی سرمایہ کاری کے نئے فیصلے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، اور تمام نگاہیں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ڈاؤ اور ایس اینڈ پی اپنے اس ریکارڈ کو برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔