LIVE
Loading Breaking News...

انسانوں کے لیے یو ایس بی پلگ اور طبی آلات کی نئی تکنیک

News Image
جامعہ کیلیفورنیا ارون کے سائنسدانوں نے ایک ایسا پوشیدہ چارجنگ انٹرفیس تیار کیا ہے جو طویل مدتی امپلانٹس کو بجلی فراہم کر سکتا ہے۔ اس نئی تکنیک کے ذریعے معمولی مقدار میں بجلی کی فراہمی کے ساتھ 16 ایم بی پی ایس کی رفتار سے ڈیٹا کی منتقلی بھی ممکن ہو گئی ہے۔
جامعہ کیلیفورنیا ارون (یو سی ارون) کے محققین نے طبی دنیا میں ایک اور حیرت انگیز کارنامہ انجام دیتے ہوئے طویل مدتی طبی آلات (امپلانٹس) کے لیے ایک نیا پوشیدہ چارجنگ انٹرفیس تیار کیا ہے۔ اس جدید ترین نظام کے تحت جسم کے اندر موجود طبی آلات کو بغیر کسی مستقل بیرونی تار یا کنکشن کے بجلی فراہم کی جا سکتی ہے، جو کہ مریضوں کی صحت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس نظام کا تجربہ کامیاب رہا ہے جس کے ذریعے مائیکرو واٹس بجلی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سولہ میگابائٹ فی سیکنڈ (16Mbps) کی رفتار سے ڈیٹا کی منتقلی بھی کامیابی سے ریکارڈ کی گئی ہے۔ جدید طبی سائنس میں امپلانٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن سب سے بڑا چیلنج ان آلات کی بیٹری کو چارج کرنا یا انہیں طویل مدت تک فعال رکھنا ہوتا ہے۔ روایتی طریقوں میں جسم پر مستقل سوراخ یا کٹ لگا کر وائرنگ کرنی پڑتی ہے جس سے انفیکشن کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ تاہم اس نئی سوئی کے ذریعے رسائی حاصل کرنے والی آؤٹ لیٹ تکنیک نے اس مسئلے کا ایک مؤثر اور محفوظ حل پیش کر دیا ہے، جس سے بیرونی انفیکشن کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ کس طرح انسانی جسم کے اندر موجود پیچیدہ نظام کے ساتھ ڈیٹا کا تبادلہ اور توانائی کی ترسیل بیک وقت کی جا سکتی ہے۔ ابتدائی تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگرچہ اس نظام سے حاصل ہونے والی بجلی کی مقدار مائیکرو واٹس تک محدود ہے، لیکن یہ پیس میکر اور دیگر سمارٹ طبی آلات کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، ڈیٹا کی منتقلی کی یہ رفتار ڈاکٹروں کو مریض کی اندرونی طبی حالت کی کڑی نگرانی کرنے میں مدد دے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد مستقبل میں انسانی اور ٹیکنالوجی کے تعلق کو مزید قریب لے آئے گی۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس پر مزید طبی و سائنسی تجربات کی ضرورت ہے، لیکن اس کے مثبت نتائج نے میڈیکل انڈسٹری میں نئی امیدیں جگا دی ہیں۔ آنے والے وقتوں میں اس تکنیک کو مزید بہتر بنا کر روزمرہ کی طبی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔