World
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز کے راستے پر اتفاق
ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سمندری راستے کے کوآرڈینیٹس پر باضابطہ مفاہمت حاصل کر لی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس اہم سفارتی قدم سے خطے میں بحری سلامتی اور تجارت کو مزید فروغ ملے گا۔
تہران اور مسقط کے مابین ایک اہم سفارتی پیش رفت کے دوران، ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مخصوص سمندری راستے کے کوآرڈینیٹس پر باضابطہ طور پر اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی بحری تجارت اور خطے کے امن کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے حساس ترین اور مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کا ایک بڑا حصہ تیل اور دیگر اہم سامان تجارت منتقل کرتا ہے۔ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان اس سمجھوتوں سے باہمی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور سمندری حدود کے حوالے سے کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
اس مفاہمت کے تحت دونوں ملکوں کے متعلقہ حکام نے تکنیکی امور پر تفصیلی بات چیت کی اور باہمی رضامندی سے کوآرڈینیٹس کو حتمی شکل دی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے خلیجی خطے میں نیویگیشن کی حفاظت میں اضافہ ہوگا اور سمندری نقل و حرکت زیادہ منظم ہو جائے گی۔ ایران اور عمان کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں، اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت، سیاسی تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور پر مسلسل بات چیت کو فروغ دیا ہے۔ یہ تازہ ترین معاہدہ اسی طویل المدتی تعاون کا تسلسل ہے جس کا مقصد خطے میں استحکام لانا ہے۔
بین الاقوامی برادری نے بھی تہران اور مسقط کے اس اقدام کو سراہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور ممالک کے مابین پرامن سفارت کاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک اس معاہدے پر مزید عملی اقدامات کا آغاز کریں گے تاکہ اس کے فوائد فوری طور پر متعلقہ اداروں اور سمندری مسافروں تک پہنچ سکیں۔