World
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز کے راستے پر اتفاق، مشرق وسطیٰ کی صورتحال
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے بحری گزرگاہ کے نقاط پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان اہم بحری راستے کی سیکیورٹی اور آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحران کے درمیان ایک اہم سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کے کوآرڈینیٹس پر باضابطہ اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں سمندری تجارت اور نقل و حمل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کے لحاظ سے دنیا کے انتہائی حساس ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مجوزہ ہرمز ڈیل کے تحت مبینہ طور پر ایران کو آنے والی ٹریفک کے کنٹرول کے حوالے سے کچھ اہم اختیارات ملنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر اس معاہدے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس سے قبل دھمکی دی گئی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھلا نہ رکھا گیا تو ایران کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے بعد اس معاہدے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں ممکنہ عسکری تصادم کو روکنے اور سفارتی راہ کھولنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی سلامتی اور ٹریفک کا بلا تعطل جاری رہنا تمام بڑی عالمی طاقتوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عمان نے اس پورے معاملے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کیا ہے تاکہ تہران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور سمندری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے حتمی اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ اس پر عملی طور پر کس حد تک عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کے بیوپاری اور معاشی ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے قبل حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔ ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے ان نقاط سے امید کی جا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی لہر میں کچھ کمی آئے گی اور بحری جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق بحال رہ سکے گی۔