LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حوثی حملے کا دعویٰ

News Image
یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر حملے کے دعوے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام کے لیے مذاکرات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے ایک بار پھر واپسی کی ہے اور اس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بحیرہ احمر اور عدن کے خلیج میں سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثی ترجمان کے مطابق یہ حملے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے کیے گئے ہیں جن کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اپنی عسکری برتری کو ظاہر کرنا تھا۔ اس دعوے کے بعد دنیا بھر کے توانائی کے مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سرمایہ کاروں نے ممکنہ سپلائی کے تعطل کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس واقعے سے چند روز قبل ہی تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان دیکھا جا رہا تھا، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے محفوظ انتظام کے لیے جاری مذاکرات تھے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے کوئی سفارتی پیشرفت ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں رسد کی صورتحال بہتر ہو جائے گی اور تیل سستا ہو گا۔ تاہم، حوثیوں کے حملے کے تازہ دعوے نے اس سفارتی امید کو دھندلا دیا ہے اور سپلائی چین کے حوالے سے خدشات کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی کھپت اور خریداروں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ دوسری جانب، میرٹائم ڈیٹا اور شپنگ رپورٹس سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران سعودی تیل سے لدے ہوئے کم از کم دو ٹینکرز بحیرہ احمر سے بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سکیورٹی چیلنجز کے باوجود توانائی کی ترسیل کے راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں، لیکن خطرے کی گھنٹی ضرور بج گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن کا خطہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس ہے اور وہاں ہونے والی ذرا سی بھی ہلچل عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کیا رُخ اختیار کرتی ہے اور کیا بین الاقوامی برادری اس بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر لائحہ عمل بناتی ہے یا نہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تیل کی سپلائی کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے، جب کہ عسکری اور سیاسی حلقوں میں اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ اگر حملوں کا یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو عالمی اقتصادی بحالی کے عمل کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔