World
روم مذاکرات: حزب اللہ کے مستقبل پر لبنان اور اسرائیل میں تعطل
روم میں جاری مذاکرات کے دوران لبنان اور اسرائیل کے درمیان حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے معاملے پر شدید اختلافات تاحال برقرار ہیں۔ اس کے باوجود سفارتی حلقوں نے دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے ماحول میں کچھ بہتری کی اطلاع دی ہے۔
اٹلی کے دارالحکومت روم میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور بالخصوص لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں تاحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ ذرائع کے مطابق، روم مذاکرات کے دوران سب سے بڑا تنازع حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ ہے جس پر دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ایک طرف جہاں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے عسکری وجود کو خطے کے لیے مستقل خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، وہیں لبنانی حکام اس حساس اندرونی معاملے پر سخت سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔
حالیہ مذاکرات کے دوران حزب اللہ کے سربراہ اور لبنانی وزیرِ اعظم کے درمیان بھی اسرائیل کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے حوالے سے تلخ کلامی اور الزامات کا تبادلہ دیکھا گیا ہے۔ لبنانی سیاسی منظر نامے میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا حکومت کو ملکی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے بیرونی دباؤ کے آگے جھکنا چاہیے یا نہیں۔ تاہم، لبنانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دوسرے روز کی بات چیت کے دوران مجموعی ماحول میں کچھ بہتری ضرور دیکھی گئی ہے، جس سے طویل مدتی سیز فائر اور سفارتی حل کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی برادری بالخصوص اٹلی اور ترکیہ جیسے ممالک اس بحران کے پرامن حل کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں اور دونوںممالک نے لبنان، غزہ اور بحیرہ احمر کی سفارت کاری میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ، مصر کے وزیرِ خارجہ نے بھی لبنانی وزیرِ اعظم سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے روم میں ہونے والی بات چیت پر تبادلہ خیال کیا ہے اور لبنان کی ریاستی خودمختاری اور استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
خطے کے مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدوں کی سیکیورٹی اور حزب اللہ کے ہتھیاروں کے مستقبل جیسے بنیادی اور پیچیدہ مسائل پر کوئی قابلِ قبول درمیانی راستہ نہیں نکالا جاتا، تب تک اس قسم کے سفارتی مذاکرات سے دیرپا امن کا قیام مشکل رہے گا۔ تمام علاقائی اور عالمی طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ فریقین کشیدگی میں کمی لانے کے لیے لچک کا مظاہرہ کریں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، جبکہ زمینی حقائق تاحال انتہائی نازک اور کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔