World
تہران کا امریکہ سے مذاکرات سے انکار، آبنائے ہرمز پر معاہدے کی بازگشت
تہران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے۔ دریں اثنا، خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ تک عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر معاہدے کے پچاس فیصد امکانات موجود ہیں۔
تہران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کی تردید کر دی ہے، جب کہ دوسری جانب بین الاقوامی اور خلیجی سفارتی ذرائع سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ خلیجی حکام کے مطابق جمعہ کے روز تک عمان کی وساطت سے ایران اور متعلقہ فریقین کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی ممکنہ معاہدے کے پچاس فیصد امکانات موجود ہیں۔ اس پیشرفت کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق قطر اور امریکہ نے بھی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے اور سیز فائر کی کوششوں میں کچھ پیشرفت کی اطلاعات دی ہیں۔ قطری رہنماؤں اور امریکی حکام کے درمیان رابطے جاری ہیں جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں استحکام لانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ قطر اس معاملے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں فریقین کے درمیان خلیج فارس میں امن کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ تہران کی جانب سے براہ راست مذاکرات کی تردید کی گئی ہے، لیکن عمان اور دیگر علاقائی ممالک کے ذریعے پس پردہ سفارت کاری اب بھی متحرک ہے۔ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی حساس ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے، اس لیے اس راستے کی بندش یا تنازع کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تمام فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ بحران کا حل سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔
آنے والے دنوں میں اس بات کا فیصلہ متوقع ہے کہ آیا عمان کی ثالثی میں ہونے والی یہ کوششیں بارآور ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔ عالمی برادری، خصوصاً خلیجی ممالک، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ اور معاشی بحران سے بچایا جا سکے، جب کہ فریقین کی جانب سے بیانات اور زمینی حقائق میں توازن لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔