LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی سابق فوجیوں کو وزارت دفاع کی غلطی پر پنشن کی رقم واپسی کا حکم

News Image
برطانیہ کی وزارتِ دفاع کی ایک بڑی انتظامی غلطی کے باعث چودہ سو سے زائد سابق فوجیوں کو لاکھوں روپے کی زائد رقم واپس کرنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ سابق فوجیوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
برطانیہ میں وزارتِ دفاع کی ایک بڑی انتظامی غفلت اور سنگین غلطی کا انکشاف ہوا ہے جس کے نتیجے میں چودہ سو سے زائد برطانوی فوجی سابقین کو دسیوں ہزار پاؤنڈز کی رقوم واپس کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب وزارت کی جانب سے پنشن کی تقسیم کے دوران غلط حساب کتاب کے باعث ان سابق فوجیوں کو ضرورت سے زیادہ ادائیگیاں کر دی گئیں۔ اس انکشاف نے نہ صرف محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں بلکہ ملکی سطح پر ایک نیا تنازعہ بھی کھڑا کر دیا ہے۔ متاثرہ سابق فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی جانب سے اس فیصلے پر انتہائی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سابق فوجیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس غلطی میں پنشنرز کا اپنا کوئی قصور نہیں تھا کیونکہ انہوں نے ہمیشہ قانون اور ضابطے کے مطابق رقوم وصول کیں۔ اب اچانک ان پر اتنی بڑی مالی ذمہ داری عائد کرنا انتہائی ظالمانہ اقدام ہے جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، بالخصوص جب وہ اپنے ملک کی خدمت انجام دے چکے ہیں۔ دوسری جانب برطانوی پارلیمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزارتِ دفاع سے جواب طلب کر لیا ہے۔ پارلیمانی اراکین کا کہنا ہے کہ محکمے کی اپنی نااہلی کا خمیازہ ان بہادر فوجیوں کو نہیں بھگتنا چاہیے جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ملک کے دفاع کے لیے وقف کیا۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ دفاع اس معاملے پر اندرونی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ اس مالی غلطی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے اور اس کا حل کس طرح نکالا جائے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے یا کم از کم ان سابق فوجیوں کو اس مالی بوجھ سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دے۔ سابق فوجی تنظیموں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس فیصلے کو فوری طور پر معطل نہ کیا گیا تو ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ اس تمام صورتحال میں برطانوی حکومت کو شدید عوامی دباؤ کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔