LIVE
Loading Breaking News...

سیعوٹا کا بحران اور امریکی حمایت، تھامس میسی کے دعوے

News Image
امریکی نمائندے تھامس میسی نے سیعوٹا کے بحران پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ بحران امریکہ کی مراکش کی حمایت سے جڑا ہوا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن تھامس میسی کی جانب سے سیعوٹا کے مقام پر پیش آنے والے بحران کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیانات نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ تھامس میسی نے اس بات پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ آیا یہ موجودہ بحران براہِ راست اس سفارتی اور عسکری تعاون سے جڑا ہوا ہے جو امریکہ کی طرف سے مراکش کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کے اصل اسباب تک پہنچا جا سکے۔ سیعوٹا کا علاقہ اور اس کے گردونواح میں رونما ہونے والے واقعات طویل عرصے سے جغرافیائی سیاسی تناؤ کا مرکز رہے ہیں۔ تھامس میسی کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی افریقہ اور بحیرہ روم کے خطے میں طاقت کا توازن ایک نازک موڑ پر ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے مراکش کی حمایت کے خطے کے دیگر ممالک اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے امریکی قانون سازوں کے اندر بھی اس پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کے پالیسی سازوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ان کی بین الاقوامی اتحادی پالیسیاں غیر ارادی طور پر نئے بحرانوں کو تو جنم نہیں دے رہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ اور دفاعی حکام اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی پالیسی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ماہرینِ سیاسیات کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں کانگریس کے اندر اس نوعیت کے سوالات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو امریکی خارجہ پالیسی کو متاثر کر سکتے ہیں۔