World
یوکرین صدر زیلنسکی اور سابق وزیر دفاع میں اختلافات اور احتجاج
یوکرین میں سابق وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد عوامی احتجاج اور سیاسی کشمکش میں شدت آ گئی ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ان کے سابق وزیر دفاع کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو عالمی میڈیا نے گیم آف تھرونز سے تشبیہ دی ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں سابق وزیر دفاع میخائیلو فیڈروف کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے دسویں روز بھی جاری رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے وزراء کی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے وزیر دفاع کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا اور پھر ان کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ اس سیاسی ہلچل نے یوکرین کے سیاسی منظر نامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ملک کے اندرونی اتحاد پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جنگ کے اس نازک موڑ پر اس طرح کے اندرونی اختلافات ملک کی دفاعی پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ دوسری طرف، عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے اور سابق وزیر دفاع کی حمایت میں نعرے بازی کر رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت اندرونی سیاسی رسہ کشی کی بجائے قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ صدر زیلنسکی کی حکومت کی طرف سے اس بحران پر قابو پانے کے لیے مختلف سفارتی اور سیاسی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن عوامی سطح پر پائے جانے والے غم و غصے میں تاحال کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ملک میں جاری اس کشمکش کو بین الاقوامی سطح پر بھی گہری نظروں سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یوکرین پہلے ہی ایک کٹھن جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور ایسے میں داخلی انتشار دشمن کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس محاذ آرائی نے آنے والے دنوں میں سیاسی حالات کو مزید پیچیدہ بنانے کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔