LIVE
Loading Breaking News...

جکارتا میں آلودگی اور ماہی گیروں کے مشکلات

News Image
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں شدید آبی آلودگی کے باعث ماہی گیروں کو مچھلی کے حصول کے لیے ساحل سے دور سمندر کے اندر سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ ساحلی علاقوں میں کچرے اور آلودگی کی بھرمار نے مقامی معیشت اور ماہی گیری کے پیشے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا کے ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مقامی ماہی گیروں کا روزگار اور زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ساحل کے قریب سمندری پانی میں پلاسٹک، صنعتی فضلہ اور دیگر اقسام کی آلودگی اس قدر پھیل چکی ہے کہ وہاں مچھلیوں کی پیداوار اور موجودگی تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ اس سنگین صورتحال نے ماہی گیروں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ روزی روٹی کمانے کے لیے اپنی چھوٹی کشتیوں پر ساحل سے میلوں دور گہرے سمندر کا رخ کریں۔ ساحل کے قریب آلودگی کے باعث روایتی شکار کے طریقے اب کارآمد نہیں رہے، اور ماہی گیروں کو زیادہ ایندھن اور وقت صرف کر کے دور دراز علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔ اس اضافی مشقت کی وجہ سے ان کے یومیہ اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ آمدنی اسی نسبت سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ مقامی ماہی گیروں اور ماحولیاتی ماہرین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس سنگین مسئلے پر فوری قابو نہ پایا، تو جکارتا کی صدیوں پرانی ماہی گیری کی صنعت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ حکام کی جانب سے صفائی کے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں لیکن آلودگی کا پھیلاؤ اتنی تیزی سے ہو رہا ہے کہ روایتی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر صنعتی فضلے کے اخراج کو روکنا ہوگا اور ساحلی صفائی کے لیے ایک جامع اور موثر حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ غریب ماہی گیروں کا روزگار بچایا جا سکے۔