LIVE
Loading Breaking News...

ایپل کی بگ باؤنٹی پالیسی اور اے آئی کی جعلی رپورٹس

News Image
مصنوعی ذہانت پر مبنی جعلی بگ رپورٹس کی بھرمار نے ایپل کمپنی کے سیکیورٹی نظام کو مفلوج کر دیا ہے جس کی وجہ سے دو لاکھ ڈالر مالیت کا ایک اہم میک او ایس ایکسپلوائٹ بھی نظر انداز ہو گیا۔ سیکیورٹی ریسرچرز کے مطابق اس صورتحال سے حقیقی اور اہم خامیوں کی بروقت نشاندہی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
بائناریو (Bynario) کے سیکیورٹی محققین نے حالیہ انکشاف کیا ہے کہ ایپل کی نئی بگ باؤنٹی پالیسی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے غلط استعمال کی وجہ سے کمپنی کو جعلی بگ رپورٹس کا سامنا ہے۔ مالیاتی اخبار فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کردہ اس جعلی ڈیٹا نے کمپنی کے لیے حقیقی خطرات کی شناخت کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے سنگین نوعیت کے سیکیورٹی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اس افراتفری کے دوران بلیک مارکیٹ میں دو لاکھ ڈالر تک کی مالیت کا حامل ایک خطرناک پرویلیج ایسکلیشن ایکسپلوائٹ بھی اس شور شرابے میں کہیں کھو گیا اور بروقت رپورٹ نہ ہو سکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے سیکیورٹی رپورٹس کی خودکار پیداوار نے پوری انڈسٹری کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ایپل جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنے بگ باؤنٹی کے طریقہ کار کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ وہ حقیقی اور جھوٹی رپورٹس میں واضح فرق کر سکیں۔ اس مسئلے کی وجہ سے نہ صرف سیکیورٹی ریسرچرز کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ دنیا بھر میں کروڑوں صارفین کا ڈیٹا بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے اگر بروقت سخت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے۔