Technology
ٹرمپ کی اے آئی کمپنیوں سے ملاقات اور چینی مصنوعی ذہانت کے خطرات
وائٹ ہاؤس نے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی جانچ اور سکیورٹی خدکات کے لیے ایک رضاکارانہ فریم ورک پر بات چیت کی۔ دوسری جانب سینیٹ کے ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور سستے چینی اے آئی کو قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے معروف اداروں کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم ملاقات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد فرنٹئیر اے آئی ماڈلز کی جانچ پڑتال اور اس سے وابستہ سائبر سکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک تیار شدہ رضاکارانہ فریم ورک پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اجلاس میں شریک کمپنیوں نے ٹیکنالوجی کی ترقی اور سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔تاہم اس ملاقات کے دوران واشنگٹن کے سیاسی حلقوں بالخصوص سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سینیٹ کے ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس حوالے سے گورننس کو غیر متوقع اور ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ پالیسیاں ملک کے تکنیکی اور سکیورٹی مفادات کا مکمل احاطہ نہیں کرتیں، جس سے مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔اس اجلاس میں سب سے اہم اور تشویشناک نکتہ چین کے سستے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کا ابھرنا قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین اور حکام کا ماننا ہے کہ مارکیٹ میں چینی اے آئی کی کم لاگت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی رسائی نہ صرف امریکی کاروباری اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک بہت بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ امریکی سکیورٹی اداروں کو خدشہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی حساس ڈیٹا کی رسائی اور غلط استعمال کا باعث بن سکتی ہے۔مستقبل کی حکمت عملی کے تحت وائٹ ہاؤس اور متعلقہ ادارے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح ملکی سطح پر اے آئی کی ترقی کو یقینی بنایا جائے جبکہ بیرونی خطرات بالخصوص چین کی بڑھتی ہوئی تکنیکی برتری کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔ سینیٹ کے اراکین نے اس معاملے پر مزید سخت قانون سازی اور پارلیمانی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک کی ڈیجیٹل سرحدوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔