World
بزرگوں کی دیکھ بھال کا نظام: خاندان کا فوری اصلاحات کا مطالبہ
والما کپٹ کے شوہر کی اچانک وفات کے بعد ان کے اہل خانہ کو بزرگوں کی دیکھ بھال کے انتہائی پیچیدہ نظام کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مشکل صورتحال کے بعد خاندان نے موجودہ فلاحی نظام میں فوری اور جامع اصلاحات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
والما کپٹ اپنے خاندان کی چار نسلوں کا ایک عزیز اور مرکزی حصہ ہیں، جن کی زندگی ستمبر کے مہینے میں اس وقت ایک نئے موڑ پر آ گئی جب ان کے 86 سالہ شوہر اور بنیادی نگہداشت کرنے والے ڈیرل اچانک وفات پا گئے۔ شوہر کی ناگہانی موت کے بعد والما اور ان کے اہل خانہ کو ایک ایسے پیچیدہ اور الجھے ہوئے بزرگوں کی دیکھ بھال کے نظام کا سامنا کرنا پڑا جس کی توقع انہوں نے ہرگز نہیں کی تھی۔ اس حادثے نے نہ صرف خاندان کو جذباتی طور پر توڑ دیا بلکہ انہیں فلاحی اور نگہداشت کے اداروں کے پیچیدہ بیوروکریٹک طریقہ کار کے سامنے بھی لا کھڑا کیا۔
اس سانحے کے بعد خاندان نے محسوس کیا کہ موجودہ نظام عام انسانوں کے لیے انتہائی مشکل اور فہم سے بالاتر ہے۔ والما کے بچوں اور دیگر عزیز و اقارب کو ہر قدم پر نئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں کاغذات کی کارروائی سے لے کر مالی اور طبی امداد کے حصول کے پیچیدہ مراحل شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی خاندان پہلے ہی صدمے سے دوچار ہو، تو ایسے میں اس قسم کے غیر لچکدار اور دفتری نظام کا سامنا کرنا مزید ذہنی کوفت کا باعث بنتا ہے۔
اس تلخ تجربے کی روشنی میں، متاثرہ خاندان نے اب حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بزرگوں کی دیکھ بھال کے اس پورے نظام کو از سر نو دیکھا جائے اور اس میں فوری اصلاحات کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام کو زیادہ شفاف، سادہ اور انسانی ہمدردی پر مبنی بنایا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی دوسرے خاندان کو اس قسم کی کٹھن صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خاندان کی اس آواز کو اب مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے بھی پذیرائی مل رہی ہے۔
ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے افراد کے لیے بنائے گئے قوانین اور امدادی اسکیمیں اکثر اتنی پیچیدہ ہوتی ہیں کہ عام لوگ ان سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہتے ہیں۔ اب جبکہ اس واقعے نے ایک بار پھر اس مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پالیسی ساز اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور بزرگ شہریوں اور ان کے خاندانوں کے لیے زندگی کو آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔