Technology
فلاک سیفٹی اور بڑے پیمانے پر نگرانی کا تنازعہ
فلاک سیفٹی نامی کمپنی کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے نام پر آٹومیٹک لائسنس پلیٹ ریڈرز کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام بڑے پیمانے پر عوام کی جاسوسی اور نگرانی کے زمرے میں آتا ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل نگرانی اور پرائیویسی کے خدشات کے درمیان، فلاک سیفٹی (Flock Safety) نامی کمپنی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کمپنی آٹومیٹک لائسنس پلیٹ ریڈرز (ALPRs) کے ذریعے بڑے پیمانے پر عوام کی نگرانی اور جاسوسی کے نظام کو فروغ دے رہی ہے، جس کے لیے وہ جذباتی حربوں کا سہارا لے رہی ہے۔ بچوں کی گمشدگی یا ان کے تحفظ کے جذباتی قصے سنا کر اس ٹیکنالوجی کو فروخت کیا جا رہا ہے تاکہ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ اس کے ممکنہ منفی پہلوؤں سے ہٹائی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار دراصل ایک قسم کی جذباتی بلیک میلنگ ہے جس کا مقصد بغیر کسی رکاوٹ کے نجی زندگی میں مداخلت کرنا ہے۔ جدید دور میں اس طرح کی ٹیکنالوجیز کے نفاذ سے عام شہریوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور پرائیویسی کے قانون کے خلاف ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بچوں کا تحفظ ایک اہم فریضہ ہے، لیکن اس کی آڑ میں پورے معاشرے کو نگرانی کے دائرے میں لانا انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ اس حوالے سے تکنیکی ماہرین اور سول سوسائٹی کے اداروں نے حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کا سختی سے جائزہ لیں کہ نجی کمپنیاں کس طرح سکیورٹی کے نام پر شہریوں کے ڈیٹا کو جمع کر رہی ہیں۔