LIVE
Loading Breaking News...

نویڈیا کے حصص میں تیزی، اسپیس ایکس کا خصوصی معاہدہ

News Image
اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلن مسک نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اپنی مصنوعی ذہانت کی تمام خدمات کے لیے خصوصی طور پر نویڈیا کے چپس استعمال کرے گی۔ اس اہم اعلان کے بعد حصص کی مارکیٹ میں نویڈیا کے شیئرز کی قیمت میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
خلا نوردی اور ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے معروف سیمی کنڈکٹر کمپنی نویڈیا (Nvidia) کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ اسپیس ایکس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلن مسک نے کمپنی کی تاریخ کی پہلی آمدنی کی کال (earnings call) کے دوران سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا باضابطہ اعلان کیا ہے کہ مستقبل میں اسپیس ایکس اپنی تمام تر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) سے جڑی خدمات اور پراجیکٹس کے لیے خصوصی طور پر نویڈیا کے تیار کردہ چپس پر انحصار کرے گی۔ اس فیصلے سے دونوں بڑی کمپنیوں کے درمیان تکنیکی اشتراک کار میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔اس اعلان کے فوری بعد مارکیٹ پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے اور وال اسٹریٹ پر نویڈیا کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سرمایہ کاروں نے اس شراکت داری کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ نویڈیا کے اے آئی ہارڈ ویئر کی دنیا بھر میں پہلے ہی انتہائی مانگ ہے اور اسپیس ایکس جیسے بڑے ادارے کا اپنے تمام اے آئی سسٹمز کے لیے خصوصی طور پر نویڈیا کے چپس کو چننا اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں اس کی برتری کس قدر مستحکم ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اشتراک سے نہ صرف اسپیس ایکس کے خلائی مشنز اور ڈیٹا پروسیسنگ کی صلاحیتوں میں زبردست بہتری آئے گی بلکہ نویڈیا کی مارکیٹ ویلیو کو بھی مزید تقویت ملے گی۔ایلن مسک نے حالیہ مہینوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کو وسعت دینے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ اسپیس ایکس کے پاس پہلے سے ہی انتہائی پیچیدہ ڈیٹا کے تجزیے اور سیٹلائٹ سسٹمز کی نگرانی کے لیے جدید ترین سسٹمز موجود ہیں، اور اب نویڈیا کے جدید ترین چپس کے حصول سے ان کی کمپیوٹنگ طاقت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ تجارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم دنیا بھر کی دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ اے آئی کے میدان میں برتری حاصل کرنے کے لیے ہارڈ ویئر کا انتخاب انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس شراکت داری سے خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ سے مزید حیرت انگیز انقلابات رونما ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔