World
اسحاق ڈار کا دورہ اردن: مسجد اقصی کے تقدس اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اردن کے دورے کے دوران مسجد اقصی میں انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کے دھاوؤں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس پر کسی قسم کی اسرائیلی خودمختاری تسلیم نہیں کی جائے گی۔
نائب وزیر اعظم اور وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اردن کے دورے کے دوران مسجد اقصی میں انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کے مسلسل اور اشتعال انگیز داخلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل کی کسی بھی قسم کی حاکمیت یا خودمختاری کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مسلم ممالک کی قیادت بیت المقدس اور اس کے تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے متحرک ہو چکی ہے۔اردن کے دارالحکومت میں منعقدہ ایک اہم وزارتی اجلاس کے دوران عرب اور مسلم ممالک کے سرفہرست سفارت کاروں نے بیت المقدس کے مقدسات کے تحفظ کے لیے ایک جامع لائحہ عمل کا آغاز بھی کیا ہے۔ اجلاس کے شرکا کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے اس اہم ترین مقام کو اسرائیلی قبضے اور خطرات کا سامنا ہے، جس کی روک تھام کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس موقع پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیت المقدس کا تحفظ خطے میں کسی بھی منصفانہ اور دیرپا امن کی بحالی کا ایک بنیادی ستون ہے۔اسحاق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جس پر خاموشی اختیار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مترادف ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے مسلم امہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قبلہ اول کے تقدس کی پامالی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور پاکستان ہر فورم پر مظلوم فلسطینیوں کی آواز اٹھاتا رہے گا۔