Technology
چین میں مصنوعی ذہانت کی وائرل ویڈیوز: بی بی سی کا تجزیہ
شدید موسمی حالات کے دوران جعلی ویڈیوز کا تیزی سے آن لائن شیئر ہونا چین میں حقیقی دنیا کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ بی بی سی کی تحقیقات میں ان وائرل ہونے والی تباہ کن ویڈیوز کی حقیقت کا جائزہ لیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں بدلتے ہوئے موسمی حالات اور انتہائی نوعیت کے قدرتی واقعات کے ساتھ ساتھ آن لائن دنیا میں ایک نیا اور خطرناک رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں چین کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے موسمیاتی حادثات اور قدرتی آفات سے متعلق متعدد ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن کی حقیقت جاننا عام صارف کے لیے مشکل بن چکا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے حال ہی میں ان وائرل ویڈیوز کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان میں سے کتنی ویڈیوز حقیقی ہیں اور کتنی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہیں۔
تجزیے کے مطابق، جب بھی دنیا کے کسی حصے میں شدید طوفان، سیلاب یا زلزلہ آتا ہے تو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر پرانی یا سراسر جعلی ویڈیوز کو نئے واقعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ چین میں پیش آنے والے حالیہ موسمیاتی بحران کے دوران بھی یہی کچھ دیکھنے میں آیا جہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ تباہی کے مناظر نے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح کی جعلی ویڈیوز نہ صرف عوام کو گمراہ کرتی ہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے لیے بھی امدادی کارروائیوں اور حقائق تک رسائی میں شدید مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے لیس جدید ٹیکنالوجی اب اتنی عام ہو چکی ہے کہ عام انسان کے لیے اصلی اور نقلی ویڈیو میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ بی بی سی کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا صارفین کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور کسی بھی خبر یا ویڈیو کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کرنی چاہیے۔ حکومتیں اور ٹیک کمپنیاں بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فیک ویڈیوز کی نشاندہی کرنے والے الگورتھمز پر کام کر رہی ہیں تاکہ معاشرے کو اس ڈیجیٹل فریب سے محفوظ رکھا جا سکے۔